ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پانی فراہم نہ کرنا توہین عدالت نہیں: سدرامیا

پانی فراہم نہ کرنا توہین عدالت نہیں: سدرامیا

Sat, 01 Oct 2016 10:55:51    S.O. News Service

بنگلورو30؍ستمبر(ایس او نیوز)کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود حکومت کرناٹک کی طرف سے تملناڈو کو پانی فراہم نہ کرنے کے فیصلے کا وزیر اعلیٰ سدرامیا نے دفاع کیا، اور کہاکہ حکومت کا یہ فیصلہ توہین عدالت قطعاً نہیں ہے۔ دہلی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ریاستی لیجسلیچر میں یہ قرار داد منظور کی گئی ہے کہ کاویری کا پانی صرف پینے کیلئے استعمال کیا جائے۔ ریاستی حکومت لیجسلیچر کے اس فیصلے پر عمل کی پابند ہے۔ انہوں نے کہاکہ عدالت نے تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کے جو غیر حقیقت پسندانہ فیصلے سنائے ہیں اس پر عمل ناممکن ہے۔ اسی لئے مجبوراً حکومت نے ریاستی لیجسلیچر کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس کے طلب کئے جانے کا مقصد توہین عدالت قطعاً نہیں تھا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ محض ناقابل عمل فیصلے پر حکومت کرناٹک نے عمل نہیں کیا تو اسے توہین عدالت قرار نہیں دیاجاسکتا۔ ریاستی حکومت نے پہلے ہی یہ رائے دی ہے کہ دونوں ریاستوں کے آبی ذخائر کا جائزہ لینے کیلئے ماہرین کی ایک ٹیم روانہ کی جائے۔ لیکن تملناڈو نے اس مطالبے کو کل مسترد کردیا۔ وزیر اعلیٰ نے پھر دہرایا کہ عدالت عظمیٰ اور مرکزی حکومت کرناٹک میں ہی نہیں بلکہ تملناڈو میں بھی پانی کی سطحوں کا جائزہ لینے کیلئے ماہرین کی ٹیم روانہ کریں اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے کہ پانی کی تقسیم کس طرح ہو۔


Share: